انٹرنیٹ سے پیسے کمانے کے کامیاب طریقے- بغیر کسی رجسٹریشن فیس کے پیسے کما سکتے ہیں

یہ سوال اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا واقعی انٹرنیٹ سے پیسے کمانا ممکن ہے؟ یا پھر یہ ایک فراڈ ہے؟اس سوال کا جواب اس بات منحصر ہے کہ آپ انٹرنیٹ سے پیسے کمانا کیسے چاہتے ہیں ۔ اگر تو آپ یہ چاہتے ہیں کہ بغیر محنت کے چند گھنٹوں میں آپ سینکڑوں ڈالر کما لیں گے تو یقیناً ایسا ممکن نہیں ہے۔

دوستوں آج میں آپ کے ساتھ انٹرنیٹ سے پیسے کمانے کے چند ایسے کامیاب طریقے شئیر کروں  گا، جن پر عمل کر کے آپ مہینے کے چند ہزار روپے سے لاکھوں روپے تک کما سکتے ہیں، پاکستان میں لاکھوں لوگ ان طریقوں پر عمل کر کے مہینے کے اچھے خاصے پیسے کمارہے ہیں، آپ بھی آن لائن کام  کر کے مہینے کے اچھے پیسے کما سکتے ہیں۔

  • یوٹیوب چینل بنائیں
  • فری لانسنگ
  • اپنا بلاگ شروع کریں
  • اپنی eBook پبلش کریں
  • ایفیلیٹ مارکیٹنگ

انٹرنیٹ سے پیسے کیسے کمائےجائیں، یہ موضوع وہ ہے جو کہ انٹرنیٹ پر اس وقت کافی زیادہ سرچ کیا جا رہا ہے ۔ کچھ لوگ بے روزگاری سے تنگ ہیں اور کچھ اپنی ملازمت  کو چھوڑ کر اپنا کام شروع کرنا چاہتے ہیں۔

Earn Money Online Click Here

how to earn money online on mobile without investment

وہ تمام دوست جو اس وقت جاب کر رہے ہیں اور آنلائن کام کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے میرا مشورہ ہے کہ آپ ملازمت کے بعد فارغ اوقات میں آن لائن کام شروع کیجیے اور جب تک ایک معقول رقم کمانا نہ شروع کر دیں اپنی جاب جاری رکھیے، جب تک آنلائن کاروبار آپ کو ملازمت کے برابر بلکہ اس سے تھوڑی زیادہ کمائی نہ کر کے دے اپنی ملازمت کو ترک نہ کیجیے اور آن لائن کام کو پارٹ ٹائم کے طور پر جاری رکھیے۔

Which app is best for earning money without investment?

اب آتے ہیں اس سوال کی طرف کہ کیا انٹرنیٹ سے واقعی دولت کمائی جا سکتی ہے ؟؟  اس سوال کا جواب یقیناً ہاں میں ہے اور اس کی جیتی جاگتی مثال میں خود ہوں۔

انٹرنیٹ پر براؤزنگ کرتے ہوئے، فیس بک پر، ٹوئٹر پر، حتیٰ کہ اخبارات میں بھی آپ کو ایسے اشتہارات نظر آتے ہوں گے کہ گھر بیٹھے چند گھنٹے کام کریں اور ہزاروں روپے کمائیں ۔ پاکستان کے خراب معاشی حالات میں ایسے اشتہارات انتہائی خوش کن محسوس ہوتے ہیں اور لوگ ان کے جھانسے میں بہت آسانی سے آ جاتے ہیں ۔

یہ مضمون ہم نے ایسے ہی تمام سوالات جو انٹرنیٹ سے کمائی کے حوالے سے آپ کے ذہن میں ہوسکتے ہیں ، کے مدلل جوابات دینے کے لئے تحریر کیا ہے

انٹرنیٹ سے کمائی ایک فراڈ ہے یا گر؟

انٹرنیٹ سے بغیر محنت پیسے کمانا ناممکن ہے۔ کوئی ویب سائٹ یا کوئی شخص آپ کو مفت میں پیسے نہیں دے گی۔ اگر کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ کسی لنک پر دن میں فلاں تعداد میں کلک کرنے سے آپ اتنے پیسے کما لیں گے یا فلاں ویب سائٹ کا لنک شیئر کرنے سے آپ کو پیسے ملیں گے، تو وہ آپ سے جھوٹ بول رہا ہے۔ اس کام کا مقصد کسی ویب سائٹ یا پراڈکٹ کی مشہوری تو ہوسکتا ہے، لیکن کمائی نہیں ۔

Make Money Online Click Here

ساتھ ہی اخبار میں نظر آنے والے ان انسٹی ٹیوٹس کے اشتہارات جن میں گھر بیٹھے کمائی کے گر سکھانے کے کورس کرائے جاتے ہیں ، دراصل فراڈ ہی ہیں ۔ ان جعلی اداروں میں آپ صرف کورس فیس کے نام پر صرف اپنا پیسہ ضائع کرتے ہیں ، جب کہ حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ فائدہ صرف ان ادارے کے چلانے والوں کو ہوتا ہے جو با آسانی اچھی خاصی رقم بٹور لیتے ہیں ۔

ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ ان اداروں میں سب سے زیادہ فراڈ ’’گوگل ایڈ سینس‘‘ کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت گوگل ایڈ سینس لاکھوں لوگوں کی کمائی کا ذریعہ ہے۔ لیکن یہ وہ لوگ ہیں جو کوئی فراڈ نہیں کر رہے اور نہ ہی کوئی غیر قانونی کام۔ بلکہ اپنی محنت اور کوشش سے ایڈ سینس سے پیسے کما رہے ہیں ۔

لیکن ہمارے یہاں چلنے والے جعلی ادارے گوگل ایڈ سینس کو آسان کمائی کا ذریعہ بتا کر لوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں ۔ ان اداروں کا طریقہ کار کچھ یوں ہوتا ہے کہ یہ آپ کو پہلے پہل تو کنفرم ایڈ سینس اکاؤنٹ فروخت کر کے پیسے وصول کرتے ہیں ۔ اگرچہ آپ خود رجسٹریشن کروا کر ایک کنفرم اکاؤنٹ حاصل کرسکتے ہیں ۔

لیکن یہاں بھی لوگوں کی سستی آڑے آ جاتی ہے اور وہ جلدی کے چکر میں انہی لوگوں سے کنفرم اکاؤنٹ خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ پھر ویب سائٹ بنانے کا طریقہ سکھا کر اس کی فیس وصول کی جاتی ہے اور اگر کوئی یہ نہ سیکھنا چاہے، تو اسے ویب سائٹ بنا کر دینے کے پیسے لیئے جاتے ہیں ۔ یہ ویب سائٹس اکثر فری ہوسٹنگ سروس دینے والی ویب سائٹس پر ہوسٹ کی جاتی ہیں ۔ کچھ انسٹی ٹیوٹ ہوسٹنگ اور ڈومین بھی فروخت کرتے ہیں اور معصوم لوگوں سے مزید پیسے اینٹھتے ہیں ۔

Earn Money Apps Click Here

اس طرح صارف کو کافی پیسے خرچ کرنے کے بعد ایک ایڈ سینس اکاؤنٹ اور ویب سائٹ ملتی ہے جس پر لگے ایڈ سینس اشتہارات پر اسے دن رات کلک کرنا ہوتا ہے اور یار دوستوں سے بھی کلک کروانے پڑتے ہیں ۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چند دنوں یا ہفتوں بعد گوگل کی جانب سے صارف کا گوگل ایڈ سینس اکاؤنٹ بلاک کر دیا جاتا ہے کیونکہ خود اپنی ویب سائٹ پر لگے اشتہارات پر کلک کرنا یا کروانا نا قابل قبول ہے۔ اپنی ذات کو دھوکا دینا بہت آسان ہے لیکن گوگل کو نہیں ۔ گوگل ایڈ سینس کی کامیابی کا راز ہی اس کا فراڈ پکڑنے کا نظام ہے جو بہت بڑی آسانی سے خود کیئے جانے والے کلک شناخت کر لیتا ہے۔ ایک با ر بلاک کیا جانے والا اکاؤنٹ شاید ہی کبھی دو بار فعال کیا جاتا ہے۔ اس طرح صارف کے لئے گوگل ایڈ سینس شجر ممنوعہ بن جاتا ہے اور انٹرنیٹ سے کمائی کا یہ باب ہمیشہ کے لئے بند ہو جاتا ہے۔

انٹرنیٹ سے کمائی ممکن ہے

بالکل، انٹرنیٹ سے پیسے کمانا یا انٹرنیٹ پر نوکری یا کاروبار کرنا ایک حقیقت ہے اور یہ نہ صرف آپ کے لئے ایک با عزت کمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے بلکہ عام نوکری یا کاروبار سے کئی گناہ زیادہ کما  کر بھی دے سکتا ہے۔انٹرنیٹ نے دنیا کو آپ کے کمپیوٹر میں سمیٹ دیا ہے جس کا فائدہ اٹھانا آپ کے اپنے ذہن پر منحصر ہے۔

انٹرنیٹ سے کروڑوں لوگوں کا کاروبار وابستہ ہے اور وہ اس سے براہ راست یا بالواسطہ کما رہے ہیں ۔ لیکن یاد رہے کہ ہر کام کی طرح یہ بھی محنت طلب ہے اور آپ کی بھرپور توجہ چاہتا ہے۔ ہم یہاں امکانات لکھ رہے ہیں جو آپ کو انٹرنیٹ سے کمانے میں مدد کریں گے لیکن یہ فیصلہ آپ نے اپنی ذات کا سامنے رکھ کر خود کرنا ہے کہ آپ کو کون سا کام کرنا چاہئے۔

ایڈ سینس سے پیسے کمائیں

آپ نے اکثر نوٹس کیا ہو گا کہ جب آپ کوئی لفظ لکھ کر گوگل پر تلاش کرتے ہیں تو یہ اس لفظ سے متعلق اشتہارات بھی اسکرین کے دائیں جانب اور نتائج سے اوپر دکھاتا ہے۔ یہ اشتہارات دکھانے کے لئے ان ویب سائٹ کے مالکان، گوگل کے پروگرام AdWordsکے ذریعے گوگل کو پیسے دیتے ہیں ۔

گوگل اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ان ویب سائٹ مالکان کے اشتہارات اپنے سرچ رزلٹس کے صفحات پر دکھا کر کماتا ہے۔گوگل اس کمائی میں صرف اکیلا حصے دار نہیں ۔ آپ بھی گوگل ایڈ سینس کے ذریعے یہ اشتہارات اپنی ویب سائٹ پر دکھا کر اپنا حصہ وصول کرسکتے ہیں ۔

Earn Money Website Click Here

گوگل نے یہ پروگرام 18جون 2003ء کو شروع کیا تھا اور گوگل ایڈسینس بلا شبہ انٹرنیٹ سے پیسے کمانے کا اس وقت سب سے زیادہ کارآمد طریقہ ہے۔ اگر ایڈ سینس کا صحیح طرح سے استعمال کیا جائے تو یہ آپ کی مستقل آمدنی کا ذریعہ بن سکتا ہے لیکن شرط ایمانداری کی ہے کیونکہ گوگل اس وقت تک تنگ نہیں کرتا جب تک اسے تنگ کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔

ایڈ سینس کے کام کرنے کا طریقہ بھی سادہ ہے۔ آپ کو ایک ویب سائٹ بنانی ہے اور اسے قابل قبول طریقوں جیسے سرچ انجن آپٹمائزیشن کے ذریعے زیادہ سے زیادہ صارفین تک پہنچانا ہے تاکہ وہ آپ کی ویب سائٹ کا دورہ کریں اور گوگل ایڈ سینس کے دکھائے ہوئے اشتہارات پر کلک کریں ۔ ہم تمام مراحل یہاں مرحلہ وار تحریر کر رہے ہیں ۔

٭ … گوگل ایڈ سینس پر رجسٹریشن کروانے سے پہلے آپ کو اپنی ایک ویب سائٹ تیار کرنی ہے۔ یہ ویب سائٹ کسی بھی دلچسپ موضوع کے حوالے سے ہوسکتی ہے۔ ویب سائٹ کی زبان بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ انگلش یا یورپ میں بولی جانے والی زبانوں کے علاوہ زبانوں میں بنائی گئی ویب سائٹس گوگل ایڈ سینس سے کچھ خاص نہیں کما پاتیں ۔

اس لئے ویب سائٹ کی زبان کا فیصلہ بھی سوچ سمجھ کر کریں ۔ ویب سائٹ جاذب نظر اور کارآمد ہونی چاہئے تاکہ صارف اس ویب سائٹ پر زیادہ سے زیادہ آئیں ۔ یاد رہے کہ کسی دوسری ویب سائٹ سے مواد چوری کر کے آپ گوگل کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ اس لئے ویب سائٹ پر موجود مواد اصل اور انوکھا ہونا چاہئے۔

اگر آپ کے لئے خود ویب سائٹ بنانا ممکن نہیں لیکن ایک اچھی ویب سائٹ کا خاکہ آپ کے ذہن میں ہے تو آپ پاکستان میں موجود سینکڑوں ویب سائٹس بنانے والے چھوٹے بڑے سافٹ ویئر ہاؤسز یا پھر کسی اچھے ڈیزائنر /ڈیویلپر سے ویب سائٹ بنوا سکتے ہیں ۔ اس میں آپ کو یقیناً پیسے خرچ کرنے ہوں گے لیکن یہ بھی تو سوچیں کہ شاید ہی کوئی ایسا کاروبار ہو جس میں ابتدائی سرمایہ کاری نہ کرنی پڑتی ہو۔

Earn Money with mobile Click Here

آج کل صرف ویب سائٹس ہی نہیں بلکہ بلاگز (Blogs) بھی گوگل ایڈ سینس کے لئے بڑی تعداد میں استعمال ہوتے ہیں ۔ اگر آپ اچھا لکھ سکتے ہیں اور کسی خاص موضوع پر ویب سائٹ بنانے کے جھنجھٹ سے بھی چھٹکارا چاہتے ہیں تو پھر بلاگ ہی بنا لیں ۔ یہ بلاگ wordpress.comپر بھی ہوسکتا ہے یا پھر Blogger.comپر بھی۔ نیز، اپنی ہوسٹنگ خرید کر بھی ورڈ پریس وغیرہ انسٹال کر کے بلاگ بنایا جاسکتا ہے۔

بلاگنگ کیا ہے اور مفت بلاگ کیسے بنائیں

ویب سائٹ کی تکمیل کے بعد کچھ عرصہ اس کی تشہیر بھی ضروری ہے تاکہ وزیٹرز کی تعداد بڑھائی جاسکے۔ آپ یہ کام فیس بک یا ٹوئٹر کی مدد سے کر سکتے ہیں ۔ جہاں موجود آپ کے دوست اور Followersویب سائٹ کی ٹریفک بڑھانے میں بہت معاون ثابت ہوں گے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ویب سائٹ بنانے کے کم از کم چھ ماہ تک آپ کو گوگل ایڈ سینس پر رجسٹریشن کے لئے درخواست جمع نہیں کروانی چاہیے۔ گوگل کا پاکستانی ویب ماسٹرز کی درخواست کو رد کر دینا معمول کی بات ہے۔ اس لئے بہتر ہے کہ رد ہونے سے بچنے کے لئے ویب سائٹ کو پہلے اچھی طرح تیار کر لیں ۔

٭…دوسرے مرحلے میں آپ نے گوگل ایڈ سینس پر رجسٹریشن کروانی ہے۔ رجسٹریشن کے دوران پوچھی گئی معلومات کی درست فراہمی ہی آپ کے مفاد میں ہے۔ رجسٹریشن پوری ہونے کے بعد آپ کا اکاؤنٹ فوراً فعال نہیں کر دیا جاتا بلکہ آپ کی درخواست جانچ پڑتال کے لئے متعلقہ فرد یا پھر کمپیوٹر پروگرام کو بھیج دی جاتی ہے جو اس بات کا تجزیہ کرتا ہے کہ آیا آپ کی ویب سائٹ گوگل ایڈ سینس کے اشتہارات چلانے کے لائق ہے کہ نہیں ۔

اگر آپ کی ویب سائٹ مکمل ہے اور ایڈ سینس کے قواعد کے مطابق ہے تو پھر آپ کی درخواست ضرور قبول کر لی جائے گی۔ اگر درخواست ناقابل قبول ہو تو بھی کوئی مسئلہ نہیں ۔ آپ اپنی ویب سائٹ کو مزید بہتر بنائیں اور دوبارہ درخواست دے دیں ۔

Earn Money with mobile Click Here

٭…درخواست کی قبولی کے بعد آپ ایڈ سینس کے اشتہارات کا کوڈ حاصل کرسکتے ہیں ۔ اپنی مرضی و منشا اور ویب سائٹ کی ضرورت کے مطابق اشتہارات کا سائز منتخب کریں اور ویب سائٹ پر ایسی جگہ لگائیں جہاں یہ ویب سائٹ پر آنے والوں کی نظروں کے سامنے بھی رہیں اور ویب سائٹ کا حلیہ بھی خراب نہ کریں ۔ عموماً اشتہارات دائیں طرف یا پھر ویب سائٹ کے بینر کے قریب لگائیں جاتے ہیں ۔

٭… آپ کا کام یہیں ختم نہیں ہو جاتا۔ اب آپ کو اپنی ویب سائٹ اپ ڈیٹ رکھنی ہے تاکہ وزیٹرز کی تعداد کم نہ ہونے پائے۔ جتنا ٹریفک آپ کی ویب سائٹ پر آئے گا، آپ کی آمدنی میں اضافے کے امکانات بھی اسی تناسب سے زیادہ ہوں گے۔ اگر جیب اجازت دے تو گوگل ایڈ ورڈ کے ذریعے خود بھی اپنی ویب سائٹ کا اشتہار دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔

یہ بات یاد رکھیں کہ ویب سائٹ بنا کر اسے گوگل ایڈ سینس سے قابل قدر کمائی کا ذریعہ بننے میں ضرور وقت لگتا ہے۔ یہ چند ماہ بھی ہوسکتے ہیں اور چند سال بھی۔ تمام تر انحصار آپ کی اپنی محنت اور لگن پر ہے۔ چند دنوں میں پیسوں کا ڈھیر نہیں لگ سکتا۔ نیز، یہ امید رکھنا کہ ہزاروں ڈالر ماہانہ آمدن شروع ہو جائے گی، بھی غیر معقول ہے۔

ایسے ویب سائٹ مالکان ضرور موجود ہیں ، جو حقیقتاً ہزاروں ڈالر ماہانہ ایڈ سینس سے کما لیتے ہیں لیکن ان کی ویب سائٹس پر ٹریفک بھی لاکھوں کی تعداد میں ہوتا ہے۔ اگر آپ گوگل ایڈ سینس سے اپنی ویب سائٹ کے روز مرہ اخراجات نکال کر چند سو ڈالر کما لیتے ہیں تو یہ بہترین ہے۔

٭… گوگل ایڈ سینس سے کمائے گئے پیسے $100یا اس سے زائد ہو جانے پر منگوائے جاسکتے ہیں ۔ سو ڈالر سے کم پیسے گوگل نہیں بھیجتا۔

یہ تو ذکر تھا گوگل ایڈ سینس کا، اب ہم آپ کو انٹرنیٹ سے کمائی کو ایک اور طریقہ بتاتے ہیں اور یہ طریقہ ہے فری لانسنگ (Freelancing

فری لانسنگ

اگر آپ ویب ڈیویلپر ہیں ، کوئی پروگرامنگ لینگویج جانتے ہیں ، کسی اہم سافٹ ویئر پر مکمل عبور رکھتے ہیں ، انگلش اچھی بول سکتے ہیں ، ٹائپنگ بہت تیزی سے کرسکتے ہیں ، ٹربل شوٹنگ کرسکتے ہیں ، اکاوئنٹنگ اچھی جانتے ہیں ، مضامین یا پریس ریلیز لکھ سکتے ہیں الغرض کسی بھی کام میں مہارت رکھتے ہیں تو آپ ’’ فری لانسنگ‘‘ کرسکتے ہیں ۔

امریکی اور یورپی کمپنیاں یا فرد وہاں کے مقامی افراد کو کسی کام یا پروجیکٹ کے لئے نوکری پر رکھیں تو انہیں اس کی تنخواہ کے علاوہ کئی اخراجات برداشت کرنے ہوتے ہیں ۔ کئی کمپنیاں تو ایسی بھی ہیں جن کے آفس برائے نام ہی ہوتے ہیں اور وہ کوئی فرد نوکری پر رکھنے کی متحمل نہیں ہوسکتیں ۔

ایسے میں وہ کمپنیاں یا افراد سستے ممالک جیسے پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، چین اور فلپائن میں موجود آن لائن کام کرنے والے افراد کو وہ کام ’’آؤٹ سورس(Outsource)‘‘ کر دیتے ہیں جو یہ کام دور بیٹھے ہی بہت احسن طریقے سے کر دیتے ہیں ۔ اس طرح کام دینے والے کو بھی بچت ہوتی ہے اور کام کرنے والے کو بھی اپنے کام کا مقامی مارکیٹ کے مقابلے میں اچھا معاوضہ مل جاتا ہے۔

Earn Money with mobile Click Here

انٹرنیٹ اور کمپیوٹر میں ہونے والے ترقی اور تبدیلیوں نے آؤٹ سورسنگ کو ایک انڈسٹری کی شکل دے دی ہے اوراس وقت آؤٹ سورسنگ اور فری لانسنگ اربوں ڈالر کی  انڈسٹری بن چکا ہے۔ بھارت اور فلپائن کی سافٹ ویئر انڈسٹری میں کمائے جانے والے زر مبادلہ کا ایک بڑا حصہ آؤٹ سورس کئے گئے کاموں سے آتا ہے۔

آئی بی ایم ہو یا انٹل، ڈیل ہو یا جنرل الیکٹرک، سب ہی اپنے اخراجات کم کرنے کے لئے مستقل ملازم رکھنے کے بجائے آؤٹ سورسنگ کو ترجیح دیتے ہیں ۔ آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو کہ سینکڑوں مشہور امریکی اور یورپی کمپنیوں کے کسٹمر سپورٹ سینٹر یا کال سینٹر بھارت، فلپائن ، پاکستان یا بنگلہ دیش میں موجود ہیں جو فی کال چند ڈالر یا معاہدے کے مطابق معاوضہ وصول کرتے ہیں اور ان کمپنیوں کے لئے لاکھوں ڈالر سالانہ بچاتے ہیں ۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والے بیشتر سافٹ ویئرہاؤس  آؤٹ سورس کئے گئے کام ہی کرتے ہیں ۔

آپ یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ آپ کیسے سافٹ ویئر ہاؤس یا کال سینٹر کھولیں گے۔ لیکن جناب فری لانسنگ کرنے کے لئے آپ کو صرف ایک کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور صلاحیت کی ضرورت ہے۔ نیز، جیسا کہ ہم نے پہلے کہا، آپ تقریباً ہر کام انٹرنیٹ پر کرسکتے ہیں لیکن زیادہ تر آؤٹ سورس کئے گئے کام کمپیوٹر سے متعلق ہوتے ہیں ۔ لہٰذا ان لوگوں کے لئے آن لائن کام تلاش کرنا نسبتاً زیادہ آسان ہے جو ویب ڈیویلپمنٹ ، گرافک ڈیزائننگ یا کمپیوٹر پروگرامنگ پر مہارت رکھتے ہیں ۔

how to earn money online with google. how to earn money online 2021. how to earn money online without paying anything. how to make money online for beginners. how to make money online for free. how to earn money online for students. earn money online in Pakistan for students

how to make money online with google for free. how to earn money from google maps. how to earn money from google without investment. how to make money from google play store. make money with google posting links. earn money through internet. Google Adsense. how to earn money online with Facebook

how to earn money from google maps. make money with google posting links. how to earn money online with Facebook. how to make money from google play store. google Adsense earnings per click. how to make money online with google for free. google online jobs for students. make money online Paypal. how to make money online for beginners. make money online surveys. paid for searching the web

Earn Money with Mobile in 2021. Daily Earn Rs 2000 to 300 without investment. 8 Best Ways You Can Make Money Online. earn money from Google. Make money online with a website. Best earn money online methods.

Earn money in pakistan
Earn money in pakistan

About admin

Check Also

T-Twenty20 series, David Miller set South Africa captain

T-Twenty20 series, David Miller set South Africa captain: Johannesburg: David Miller has been appointed as …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *